اے خدا! سارے جہاں کو ہے بنایا تو نے

اے خدا! سارے جہاں کو ہے بنایا تو نے

پھول کلیوں سے اِسے خوب سجایا تو نے

 

اپنی قدرت کے مظاہر سے زمیں کو ڈھانپا

اِس میں پھر لاکھوں خزانوں کو چھپایا تو نے

 

نام بھی تیرا نہ آتا تھا ، خدایا ہم کو

عقل دی اور ہمیں خود ہی سکھایا تو نے

 

مانگتا جاؤں گا جب تک نہ بھرے گی جھولی

’’ہو نہ مایوس‘‘ کا مژدہ ہے سنایا تو نے

 

پھر رہے تھے جو بھٹکتے ہوئے تاریکی میں

راستہ اُن کو اجالوں کا دکھایا تو نے

 

شکر بس تیرا ادا کرتا رہے یہ آصف

جس کو محتاج فقط اپنا بنایا تو نے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
اَلحَمَّد توں لے کے وَالنَّاس تائیں​
اَزل سے یہی ایک سودا ہے سر میں
میری بس ایک آرزو چمکے
سخی داتا نہ کوئی تیرے جیسا
کرو رب کی عبادت، خدا کا حکم ہے یہ
تو خبیر ہے تو علیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے
محبت کا نشاں ہے خانہ کعبہ
خدا ہی مرکزِ مہر و وفا ہے
کہوں میں حمدِ ربّی کس زباں سے

اشتہارات