اردوئے معلیٰ

Search

اے خُدا اب تو مِرا تُو ہی بھرم قائِم رکھ

میری آنکھوں کو نمی دی ہے تو نم قائِم رکھ

 

سرخمِیدہ ہے تِرے سامنے اور یُوں ہی رہے

عِجز بڑھتا ہی رہے، اِس میں یہ خم قائِم رکھ

 

کیا کہُوں میرے گُناہوں کی نہِیں کوئی حدُود

مُجھ خطا کار پہ تُو اپنا کرم قائِم رکھ

 

یاد محبُوب کے کُوچے کی ستاتی ہے مُجھے

جو مدِینے کا مِرے دل میں ہے غم قائِم رکھ

 

ہم کو اِسلام کے جھنڈے کے تلے کر یکجا

دِل میں اِیمان رہے، سر پہ علم قائِم رکھ

 

تیری مخلُوق سے میں پیار کرُوں، دُکھ بانٹُوں

اور بدلے میں مِلے جو بھی سِتم قائِم رکھ

 

تُو خُدا میرا ہے مقصُود مُجھے تیری رضا

تُو ہے راضی تو مِرے رنج و الم قائِم رکھ

 

تیرے محبُوب کی ہے مُجھ کو شِفاعت کی آس

کملی والے کی ہے بس تُجھ کو قسم قائِم رکھ

 

خاک حسرتؔ سے بھلا ہو گی ثنا خوانی تِری

عِجز بڑھ کر ہے مِرے دِل میں کہ کم قائِم رکھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ