اردوئے معلیٰ

اے دل مدینہ آگیا باہر نکل کے آ

ممکن نہیں ہے آنا تو اشکوں میں ڈھل کے آ

 

اے باد صبح ! گلشن ذکر رسول میں

چہرے پہ رنگ عشق شہ دیں کے مل کے آ

 

لغزش روا نہیں ہے یہاں، اے مرے جنوں!

یہ شہر شاہ کون و مکاں ہے ، سنبھل کے آ

 

میری جبیں بھی کرتی ہے مدت سے انتظار

اے سنگِ راہِ طیبہ! ادھر بھی اچھل کے آ

 

کھویا ہوا ہوں گنبد خضرا کے حسن میں

للہ میرے پاس نہ لمحے اجل کے آ

 

آواز دے رہی ہیں مدینے سے رحمتیں

بچوں کی طرح تو مری جانب مچل کے آ

 

یاورؔ بلا رہا ہے درِ مصطفیٰ تجھے

گھر ٹھوکروں پہ مار کے رستہ بدل کے آ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات