اردوئے معلیٰ

اے سید و سالارِ حرم، رحمت عالم

اے سید و سالارِ حرم، رحمت عالم

تو جملہ مکارم میں حکم، رحمت عالم

 

توصیف تری حیطہ الفاظ میں لاؤں

بے بس ہے زباں اور قلم، رحمت عالم!

 

چمکے گا یقینا مری قسمت کا ستارا

کر لوں جو تری نعت رقم، رحمت عالم

 

سلطانی و میری ہے ترے در کی فقیری

اے صاحب اکلیل و علم، رحمت عالم

 

صحرائے زمانہ تری رحمت سے ہے سیراب

تو بحر سخا، ابر کرم، رحمت عالم

 

سرخیل رسولان جہاں، سرور دوراں

سرآمد ارباب ہمم، رحمت عالم

 

لاریب کہ ہے تیرے کف پا کی بدولت

انوار فشاں ارض حرم، رحمت عالم

 

تیرا در رحمت ہے غریب الوطناں کو

رشک چمنستان اِرم، رحمت عالم

 

ہم خستہ دلوں کو ہے فقط تیری محبت

تریاق سم درد و الم، رحمت عالم

 

خالد کو ملا ہے تری رحمت کی بدولت

اظہار کا یہ کیف، یہ کم، رحمت عالم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ