اردوئے معلیٰ

اے شاہِ امم، سیّدِ ابرار یا نبی

بن جائے کوئی صورتِ دیدار یا نبی

 

اِک لفظِ ناتمام ہے اور وہ بھی زیرِ لب

جذبِ دروں کو مہلتِ اظہار یا نبی

 

کیسے مَیں جوڑوں خوابِ شکستہ سے کوئی خواب

کیسے رہے وہ کیفِ کرم بار، یا نبی

 

چھایا رہے یہ ابرِ عطا دشتِ شوق پر

ٹھہری رہے یہ زُلفِ طرح دار یا نبی

 

در وا ہو مجھ پہ وصل کی پہلی بہار کا

ڈھے جائے اب تو ہجر کی دیوار، یا نبی

 

عرضِ نیاز، جذبِ دروں، حرفِ شوق و عجز

لایا ہے ساتھ اپنے طلبگار، یا نبی

 

مدحت میں تیری وقف رہیں تو بھلے نصیب

ورنہ یہ نُطق و خامہ ہیں بیکار، یا نبی

 

آئے تو تھے یہ در پہ معافی طلب حضور

جانے کے اب کہاں ہیں گنہگار، یا نبی

 

مقصودؔ کے بھی کاسۂ فکر و نظر کی بھیک

اِک نعت ہو، جو حاصلِ گفتار، یا نبی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات