اردوئے معلیٰ

اے شۂ انس وجاں،زینتِ این وآں ، بزمِ ہستی کی ہے دل کشی آپ سے

آپ آئے تو دُنیا مہکنے لگی ، گل بہ داماں ہوئی زندگی آپ سے

 

چار سو راج کرتی تھیں تاریکیاں ، ظلمتیں خیمہ زن تھیں یہاں اور وہاں

آپ کے دم سے جگ مگ ہوا سب جہاں ، مل گئی خلق کو روشنی آپ سے

 

آپ کا دستِ شفقت بنا سائباں ، خستہ حالوںکا گھر آپ کا آستاں

زندہ تر آپ سے نقشِ آدم گری ، تازہ تر حسنِ چارہ گری آپ سے

 

آپ نے خاک کو آسماں کر دیا ، ریگ زاروں کو رشکِ جناں کر دیا

آپ کے لمس سے ہر زمانہ ہَرا ، ہوگئی ہر فضا شبنمی آپ سے

 

آپ کے دم سے گونجی ہے حق کی اذاں ، آپ نے کی رقم صدق کی داستاں

خاک میں مل گیا بُت گری کا گُماں ، مٹ گئی شوکتِ کافری آپ سے

 

مجھ کو کیسے پریشاں زمانہ کرے ، غیر کے در پہ کیوں میری گردن جھکے

آپ کے نام سے مجھ کو عزت ملی ، مجھ کو حاصل ہے آسودگی آپ سے

 

گرچہ شاخِ عمل ہے مری بے نمو ، دل میں لیکن مچلتی ہے یہ آرزو

بات کرتا رہوں ہر گھڑی آپ کی ، بات کرتا رہوں ہر گھڑی آپ سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ