اے عمرِ رفتہ تیری شام و سحر میں کیا تھا

اے عمرِ رفتہ تیری شام و سحر میں کیا تھا

اک در میں کیا کشش تھی ، اک رہگذر میں کیا تھا

 

کیوں دیکھ کر اسے ہم وقفِ الم ہوئے تھے

اس دل کو کیا ہوا تھا ، اُس عشوہ گر میں کیا تھا

 

فکر و نظر نے کھولے کتنے رموزِ ہستی

لیکن کھلا نہ اس کی پہلی نظر میں کیا تھا

 

آتے ہیں یاد اکثر چھوڑے ہوئے مکاں بھی

چہروں کے ساتھ ان کے دیوار و در میں کیا تھا

 

تھک ہار کے ہیں بیٹھے اک دشتِ بے اماں میں

منزل کہاں تھی اپنی ، عزمِ سفر میں کیا تھا

 

پہلے سرشکِ غم تھے یا پھر خوشی کے آنسو

جز گریۂ ندامت اب چشمِ تر میں کیا تھا

 

دولت خلوص کی تھی سادہ سی بستیوں میں

ورنہ سحرؔ بظاہر اُجڑے نگر میں کیا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ