اے میرے مولا، اے میرے آقا، بس اپنے رستے پہ ڈا ل دے توُ

اے میرے مولا، اے میرے آقا، بس اپنے رستے پہ ڈال دے توُ

یہ فانی دنیا کے غم ہیں جتنے ، یہ میرے دل سے نکال دے توُ

 

ہو نام تیرا ہی دل کے اندر، ہو ذکر تیرا مرے لبوں پر

ہو اتنی سچی یہ میری چاہت، کہ عشق بھی بے مثال دے توُ

 

کسی کو رنگ اور نور دے دے، کسی کو عقل اور شعور دے دے

تُو جس کو جو کچھ بھی دے اے مولا،مجھے اک اپنا وصال دے توُ

 

میں عشق میں تیرے ڈھل ہی جاؤں ،ہر ایک رہ پر سنبھل ہی جاؤں

کرے مری روح رقص جس پر ، مجھے وہ سُر اور تال دے تُو

 

یہ پھول کلیاں ، ستارے خوشبو، مری زبان اور ترجماں ہوں

اب اپنی مدحت کی ایسی قدرت اے مالکِ ذوالجلال دے تُو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے
تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی
نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا
ادب سے سر جھکا، بیٹھے ہوئے ہیں
مرا خدا رؤف ہے، مرا خدا رحیم ہے
بہت ارفع مقامِ زندگانی ہے
حرم کو جانے والو جا کے واں رب کو منالو
خدایا دے مجھے اپنا پتہ، پہچان دے دے
خدا کا ذکر میری زندگی ہے