اردوئے معلیٰ

اے میرے مولا ترِی دہائی تُو میری توبہ قبول کر لے

اے میرے مولا ترِی دہائی تُو میری توبہ قبول کر لے

ہے تیری محتاج کل خدائی تُو میری توبہ قبول کر لے

 

شباب لہو و لعب میں گزرا تو اب بڑھاپے میں ہوں پریشاں

کہ عمر ساری یونہی گنوا ئی، تُو میری توبہ قبول کر لے

 

کہ حرص دنیا میں عمر بیتی سو تیرے در سے رہا تغا فل

یہ دنیا داری نہ کام آئی تُو میری توبہ قبول کر لے

 

ترِا کرم ہو ، نبی کی پہچاں ، لحد کی منزل بھی ہوگی آساں

وگرنہ دکھتی ہے گہری کھائی تُو میری توبہ قبول کر لے

 

یہ تیرے محبوب کی محبت، انہی کی مدحت میں عمر بیتی

ہے زندگی کی یہی کمائی تُو میری توبہ قبول کر لے

 

طفیل اپنے نبی کے مولا ! کرم ہو مجھ پر کہ اس سے پہلے

بدن سے ہو روح کی جدائی تُو میری توبہ قبول کر لے

 

جلیل کا تو سوا نبی کے مرِے خدا آسرا نہیں ہے

انہی کے صدقے میں دے رہائی تُو میری توبہ قبول کر لے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ