اردوئے معلیٰ

Search

اے کاش دیکھ لوں میں کبھی اس دیار کو

آئے جہاں قرار دلِ بے قرار کو

 

خیرات مل گئی جسے کوئے رسول سے

کرتا نہیں سلام کسی تاجدار کو

 

جاؤں گا تیرے واسطے میدانِ حشر تک

سینے سے میں لگا کے ترے انتظار کو

 

ہم کیوں نہ چاہیں تیری رضا اے شہہ انام

مطلوب ہے رضا تری پروردگار کو

 

تیرے کرم نے حوصلہ بخشا ہے اس قدر

ہم پھول جانتے ہیں غموں کے شرار کو

 

تیرا خدا ہے تیری جزا خلد ہے تری

تجھ پہ ہے فخر امت عصیاں شعار کو

 

سیراب کر رہا ہے دلوں کی جو کھیتیاں

کرتا ہوں میں تلاش اسی آبشار کو

 

اے بادِ صبح ! سرورِ عالم کی شکل میں

دیکھا ہے تونے رحمت پروردگار کو

 

ہم ہی نہیں ہیں صرف ملائک بھی صبح و شام

پلکوں سے جھاڑتے ہیں تری رہگزار کو

 

مجرم کو اپنے تیری عدالت میں بھیج کر

واضح کیا خدا نے ترے اختیار کو

 

اے وقت یہ تو سوچ میں کس کا غلام ہوں

محمول عاجزی پہ نہ کر انکسار کو

 

انکی گلی کی خاک میں لوٹے گا جس گھڑی

مل جائے گی چمک درِ عز و وقار کو

 

لاکھوں میں ایک یہ بھی ہے اس در کی خاصیت

لگتی نہیں ہے ٹھیس کبھی اعتبار کو

 

جب مجھ پہ چل سکا نہ کوئی آسماں کا زور

حیرت سے دیکھنے لگا تیرے حصار کو

 

اس سے بڑا جہان میں کوئی صلہ نہیں

تیرا ہی قرب چاہئے مدحت نگار کو

 

اے خوشبوئے مدینۂ محبوب کردگار

منزل عطا ہو قافلۂ بے دیار کو

 

موجود ہیں حضور تو کیا فکر دل مجھے

رہتی ہے فکر شہر کی خود شہریار کو

 

ہو جائیے غلامِ غلامان مصطفیٰ

ٹھوکر پہ رکھئے گردشِ لیل و نہار کو

 

ہر صبح نورؔ دیکھا گیا انکے شہر میں

خوشبو سمیٹتے ہوئے بادِ بہار کو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ