اردوئے معلیٰ

اے کاش کبھی ہو جو رسائی ترے در کی

کرتا رہوں دن رات گدائی ترے در کی

 

آنکھوں کے لیے سرمہ ءِ نایاب تھا درکار

سو خاک مدینے سے منگائی ترے در کی

 

ہے جن و بشراور ملائک کا وظیفہ

کرتے ہیں بیاں سب ہی بڑائی ترے در کی

 

احوالِ مدینہ سنا زائر سے تو ہم نے

تصویر خیالوں میں بنائی ترے در کی

 

اک درجہ سکوں ہوگی ترے در کی زیارت

اک بارِ گراں ہوگی جدائی ترے در کی

 

مجھ کو نہ ہی مخمل نہ ہی کم خواب کی حاجت

سرکار عطا ہو جو چٹائی ترے در کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات