اردوئے معلیٰ

اے کاش! کہ طیبہ کے مکیں ہم بھی کبھی ہوں

اے کاش! کہ طیبہ کے مکیں ہم بھی کبھی ہوں

سرکار کے روضے کے قریں ہم بھی کبھی ہوں

 

محفل ہو سجی نعت کی، مسند پہ ہوں آقا

عشاق کے مابین وہیں ہم بھی کبھی ہوں

 

حسرت ہے یہی آپ کے دربار پہ آ کے

رکھے ہوئے چوکھٹ پہ جبیں ہم بھی کبھی ہوں

 

عشاق کو طیبہ میں وہ قُربت میں بٹھا کر

جب چہرہ دِکھائیں وہ حسیں ہم بھی کبھی ہوں

 

اُگتے ہیں گُلِ رحمت و اِکرام جہاں پر

اُس قریہء رحمت پہ کہیں ہم بھی کبھی ہوں

 

اے کاش! مدینے میں فرشتوں کے برابر

طیبہ میں رضاؔ عرش نشیں ہم بھی کبھی ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ