اے کاش! کہ طیبہ کے مکیں ہم بھی کبھی ہوں

اے کاش! کہ طیبہ کے مکیں ہم بھی کبھی ہوں

سرکار کے روضے کے قریں ہم بھی کبھی ہوں

 

محفل ہو سجی نعت کی، مسند پہ ہوں آقا

عشاق کے مابین وہیں ہم بھی کبھی ہوں

 

حسرت ہے یہی آپ کے دربار پہ آ کے

رکھے ہوئے چوکھٹ پہ جبیں ہم بھی کبھی ہوں

 

عشاق کو طیبہ میں وہ قُربت میں بٹھا کر

جب چہرہ دِکھائیں وہ حسیں ہم بھی کبھی ہوں

 

اُگتے ہیں گُلِ رحمت و اِکرام جہاں پر

اُس قریہء رحمت پہ کہیں ہم بھی کبھی ہوں

 

اے کاش! مدینے میں فرشتوں کے برابر

طیبہ میں رضاؔ عرش نشیں ہم بھی کبھی ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپﷺ آئے تو مہک اٹھا بصیرت کا گلاب
تیرا نادان آقا کوئی اور ہے
جب ان کے روضۂ اقدس کو بند آنکھوں سے تکتے ہیں
کرم کا خاص وسیلہ ہے ذکرِ شاہِ انام
نہ قیدِہست نہ صدیوں کی حد ضروری ہے
تصور میں مدینے کی فضا ہے اور میں ہوں
حسن اتم ہو پیکر لطف تمام ہو
پڑا ہے اسمِ نبی سے رواج حرفوں کا
اے کریم! نادم ہوں، شرم ہے نگاہوں میں
معجزاتِ کن فکاں کا ایک ہی مفہوم ہے