اردوئے معلیٰ

Search

بات یوں ہے کہ اب دل سلامت نہیں

صاحبو کیا ہے یہ گر قیامت نہیں

 

کج کلاہی کی عادت کا اعجاز ہے

اب ہمارا کوئی قد و قامت نہیں

 

دل تو کم بخت خود شعبدہ ساز ہے

عشق اس کے لیے کچھ کرامت نہیں

 

شکوہِ بے رخی ہم سے بے سود ہے

اب تو خود سے بھی صاحب سلامت نہیں

 

آپ چاہیں تو پھر نظرِ ثانی کریں

ہم کو اپنے کیے پر ندامت نہیں

 

دل کی وحشت کی بنیاد کیا ڈھونڈتی

زندگی تیری اتنی قدامت نہیں

 

حسن کیا چیز ہے وقت کے سامنے

تو قیامت سہی تاقیامت نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ