بات یوں ہے کہ اب دل سلامت نہیں

بات یوں ہے کہ اب دل سلامت نہیں

صاحبو کیا ہے یہ گر قیامت نہیں

 

کج کلاہی کی عادت کا اعجاز ہے

اب ہمارا کوئی قد و قامت نہیں

 

دل تو کم بخت خود شعبدہ ساز ہے

عشق اس کے لیے کچھ کرامت نہیں

 

شکوہِ بے رخی ہم سے بے سود ہے

اب تو خود سے بھی صاحب سلامت نہیں

 

آپ چاہیں تو پھر نظرِ ثانی کریں

ہم کو اپنے کیے پر ندامت نہیں

 

دل کی وحشت کی بنیاد کیا ڈھونڈتی

زندگی تیری اتنی قدامت نہیں

 

حسن کیا چیز ہے وقت کے سامنے

تو قیامت سہی تاقیامت نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا
پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو
میں عِشق زار میں اِس دِل سمیت مارا گیا
تڑپتی، رینگتی، لوگوں کے ہاتھوں مر مر کر
خوشبوئے گُل نظر پڑے ، رقص ِ صبا دکھائی دے
میرا سکوت سُن ، مِری گویائی پر نہ جا
غضب کی دُھن، بلا کی شاعری ہے
وہ زخم جو معمول سمجھتے تھے ، بھرے کیا؟
نظر میں تاب کہاں تیرے نُور کی خاطر
آگ سے آگ بجھانے کی تمنا کر کے

اشتہارات