بازی انا کی، بھوک سے کیسی بری لگی

بازی انا کی، بھوک سے کیسی بری لگی

بھوکا بُرا لگا، کبھی روٹی بری لگی

 

خانہ بدوشیوں کے یہ دکھ بھی عجیب ہیں

چوکھٹ پر اپنے نام کی تختی بری لگی

 

روشن دریچے کر گئے کچھ اور بھی اداس

صحرا مزاج آنکھ کو بستی بری لگی

 

دشمن کی ناخدائی گوارا نہ تھی ہمیں

غرقاب ہوتے ہوتے بھی کشتی بری لگی

 

خود پر دیارِ غیر کی نسبت نہ رکھ سکا

بیٹے کو ماں کے نام کی گالی بری لگی

 

سیکھا تھا ننگے پیروں سے چلنا جہاں ظہیرؔ

پاپوش مل گئے تو وہ مٹی بری لگی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ