اردوئے معلیٰ

باغِ ہستی میں ہےخوشبو آپ کی مہکار سے

باغِ ہستی میں ہےخوشبو آپ کی مہکار سے

کھل اٹھیں پژمردہ چہرے آپ کےدیدار سے

 

عرض ہےمیری مدینے کی بڑی سرکار سے

روشنی ہو دل میں میرے آپ کے انوار سے

 

ایک مدت سے ترستا ہوں کہ آئیں خواب میں

اور جی بھر کے ہوں باتیں احمدِ مختار سے

 

جو ہو ناموسِ رسالت کاازل سے پاسباں

کب ڈرے گا وہ بھلا اک آہنی تلوار سے

 

کیوں کسی کو لائے خاطر میں بھلا اے ہمدمو

رابطہ زاہدؔ کا ہے کونین کی سرکار سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ