اردوئے معلیٰ

Search

باغ سے جھولے اتر گئے

سندر چہرے اتر گئے

 

وصل کے ایک ہی جھونکے میں

کان سے بالے اتر گئے

 

بھینٹ چڑھے تم عجلت کی

پیڑ سے کچے اتر گئے

 

لٹک گئے دیوار سے ہم

سیڑھی والے اتر گئے

 

گھر میں کس کا پاؤں پڑا

چھت سے جالے اتر گئے

 

ڈول وہیں پر پڑا رہا

چاہ میں پیاسے اتر گئے

 

اک دن ایسا ہوش آیا

سارے نشے اتر گئے

 

بھاگوں والی بستی تھی

جہاں پرندے اتر گئے

 

گاڑی پھر بھی رواں رہی

ہم پٹڑی سے اتر گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ