بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا

بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا

محبت کا تماشائی مجھے اچھا نہیں لگتا

 

وہ جب بچھڑے تھے ہم تو یاد ہے گرمی کی چھٹیاں تھیں

تبھی سے ماہ جولائی مجھے اچھا نہیں لگتا

 

وہ شرماتی ہے اتنا کہ ہمیشہ اس کی باتوں کا

قریباً ایک چوتھائی مجھے اچھا نہیں لگتا

 

نہ جانے اتنی کڑواہٹ کہاں سے آ گئی مجھ میں

کرے جو میری اچھائی مجھے اچھا نہیں لگتا

 

مرے دشمن کو اتنی فوقیت تو ہے بہر صورت

کہ تو ہے اس کی ہمسائی مجھے اچھا نہیں لگتا

 

نہ اتنی داد دو جس میں مری آواز دب جائے

کرے جو یوں پذیرائی مجھے اچھا نہیں لگتا

 

تری خاطر نظر انداز کرتا ہوں اسے ورنہ

وہ جو ہے نا ترا بھائی مجھے اچھا نہیں لگتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں
نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
ہمارا حق کبھی دیا، کبھی نہیں دیا گیا
تمہارے گال کو چھو کر بھی کھارا کس لئے ہے؟
نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں
اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ہوگا ہی
گر چاہتے ہو حسرتِ ناکام دیکھنا
کس کو سامع کرے سخن میرا
زندگانی تو اگر یوں ہو بسر کیا کیجئے