اردوئے معلیٰ

Search

بجز تیرے کوئی میرا سہارا ہی نہیں تھا

کسی کو اس لئے جاناں پکارا ہی نہیں تھا

 

مری امداد کو وہ آ گیا تھا سب سے پہلے

وہ جس کے سامنے دامن پسارا ہی نہیں تھا

 

یہی ہم سوچ کر خود کو تسلی دے رہے ہیں

تعلق توڑنے والا ہمارا ہی نہیں تھا

 

رہا یہ دیس انسانوں سے خالی اس لئے بھی

یہاں انسان سازی کا ادارا ہی نہیں تھا

 

اجالا غیر ممکن تھا ہماری زندگی میں

ہمارے بخت کا چمکا ستارا ہی نہیں تھا

 

بچھڑ کر بھی تو اس سے زندگی گزری ہماری

کبھی پل بھی بنا جسکے گزارا ہی نہیں تھا

 

مری کشتی سر ساحل بھلا کیسے پہنچتی

سمندر جب ترا کوئی کنارا ہی نہیں تھا

 

خوشی سے میں سفر کو ملتوی کرتا بھی کیسے

کسی جانب سے رکنے کا اشارا ہی نہیں تھا

 

اسے نا کام عاشق کہہ رہے ہیں لوگ نوری!

کبھی بازی محبت کی جو ہارا ہی نہیں تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ