بجھ گیا دیپ بھی جلتا جلتا

بجھ گیا دیپ بھی جلتا جلتا

اِس قدر خوف تھا لمحہ لمحہ

 

میں تِرے شہر سے یوں لوٹ آیا

درد بکھرے ملے چہرہ چہرہ

 

دور ہوتی گئی منزل مجھ سے

اور میں تھک گیا چلتا چلتا

 

میں اگر سائے طلب کرنے لگوں

دھوپ بچھ جائے گی رستہ رستہ

 

وقت کی دُھول سے یادوں کے سبھی

نقش مٹ جائیں گے رفتہ رفتہ

 

خود پہ تھا زعم جسے حد درجے

ہوگیا ٹوٹ کے ریزہ ریزہ

 

اُس کی چاہت بھی میں پہلی پہلی

پیار میرا بھی وہ پہلا پہلا

 

پھول کھلنے لگے میرے اطراف

ہنس پڑا تھا کوئی روتا روتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ