بجھ گیا دیپ بھی جلتا جلتا

بجھ گیا دیپ بھی جلتا جلتا

اِس قدر خوف تھا لمحہ لمحہ

 

میں تِرے شہر سے یوں لوٹ آیا

درد بکھرے ملے چہرہ چہرہ

 

دور ہوتی گئی منزل مجھ سے

اور میں تھک گیا چلتا چلتا

 

میں اگر سائے طلب کرنے لگوں

دھوپ بچھ جائے گی رستہ رستہ

 

وقت کی دُھول سے یادوں کے سبھی

نقش مٹ جائیں گے رفتہ رفتہ

 

خود پہ تھا زعم جسے حد درجے

ہوگیا ٹوٹ کے ریزہ ریزہ

 

اُس کی چاہت بھی میں پہلی پہلی

پیار میرا بھی وہ پہلا پہلا

 

پھول کھلنے لگے میرے اطراف

ہنس پڑا تھا کوئی روتا روتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
عشق سچا ھے تو کیوں ڈرتے جھجکتے جاویں
تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا
نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو
نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی