بحروبر کو سنبھالتا، تُو ہے

بحر و بر کو سنبھالتا ، تُو ہے

ہیرے موتی نکالتا ، تُو ہے

 

مشرقوں سے اُبھار کر سورج

دن سے راتیں اجالتا ، تُو ہے

 

جنکو خود بُلا کے لاتا ہوں

اُن بَلاؤں کو ٹالتا ، تُو ہے

 

دیکھی اَن دیکھی سب زمینوں پر

سب خلائق کو پالتا ، تُو ہے

 

جان جاتی ہے جب بھی شورش سے

دردِ دل کو سنبھالتا ، تُو ہے

 

ہر بھنور سے غمِ زمانہ کے

میری کشتی نکالتا ، تُو ہے​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیش نگاہ خاص و عام، شام بھی تو، سحر بھی تو
تُوں دُنیا دے باغ دا
گل میں خوشبو تری، سورج میں اجالا تیرا
نبی سے عشق میں روشن کیے اللہ نے میرے
اسم اللہ، میری جاگیر
اذانوں میں صلوٰتوں میں، خدا پیشِ نظر ہر دم
خدا کی ذات پر ہر انس و جاں بھی ناز کرتا ہے
خدا موجود ہر سرِ نہاں میں
خداوندِ شفیق و مہرباں تو
خدا کا نام میرے جسم و جاں میں