اردوئے معلیٰ

بحر و بر کو سنبھالتا ، تُو ہے

ہیرے موتی نکالتا ، تُو ہے

 

مشرقوں سے اُبھار کر سورج

دن سے راتیں اجالتا ، تُو ہے

 

جنکو خود بُلا کے لاتا ہوں

اُن بَلاؤں کو ٹالتا ، تُو ہے

 

دیکھی اَن دیکھی سب زمینوں پر

سب خلائق کو پالتا ، تُو ہے

 

جان جاتی ہے جب بھی شورش سے

دردِ دل کو سنبھالتا ، تُو ہے

 

ہر بھنور سے غمِ زمانہ کے

میری کشتی نکالتا ، تُو ہے​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات