بخت میرا جو محبّت میں رسا ہو جائے​

بخت میرا جو محبّت میں رسا ہو جائے​

میری تقدیر مدینے کی فضا ہو جائے​

 

کاش مقبول مرے دلی کی دعا ہو جائے​

ایک سجدہ در مولا پہ ادا ہو جائے​

 

اس کی تعظیم کو اٹھتے ہیں سلاطین جہاں​

ترے کوچے سے جو منسوب گدا ہو جائے​

 

لے بھی آ زلف پیمبر کی مہک دیر نہ کر​

اے صبا مجھ پہ یہ احسان ذرا ہو جائے​

 

اس کو اپنی ہی خبر ہو نہ دو عالم کا خیال​

جو بھی دیوانہ محبوب خدا ہو جائے​

 

میں مدینے کی زیارت سے بہت خوش ہوں مگر​

چاہتا ہوں کہ یہ مسکن ہی مرا ہو جائے​

 

ان کے دامن کو مرے ہاتھ کسی دن چھو لیں​

کچھ نہ کچھ حق عقیدت تو ادا ہو جائے​

 

وہ سر طور ہو یا مصر کا بازار حسیں​

وہ جہاں چاہیں جلوہ نما ہو جائے​

 

اب بلا لو کہ مجے دم بھر بھروسہ نہ رہا​

نہیں معلوم کسی وقت بھی کیا ہو جائے

 

​میرے نزدیک مقدر کا دھنی ہے وہ نصیر​

جس وہ ان کی نظر لطف و عطا ہو جائے​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ