اردوئے معلیٰ

بدر کامل شہ نواب ہے چہرہ تیرا

تیرگی چھو نہیں سکتی رخِ زیبا تیرا

 

کاسے بھرتے رہیں، بٹتا رہے صدقہ تیرا

کوئی مایوس نہ ہو مانگنے والا تیرا

 

اک نظر دیکھ لیا جس نے ترا حسن و جمال

آئینہ خانے میں کرتا رہے چرچا تیرا

 

شاہ نواب کے آئے تھے خیالات ابھی

اے مرے ذہن بتاتا ہے مہکنا تیرا

 

اے مرے ابر عنایات و کرم اے نواب

جو بھی چاہے اسے مل جاتا ہے سایہ تیرا

 

بس ترے نام کی گردان ہے کروٹ کروٹ

کاش ہو پائے یہ بیمار نہ اچھا تیرا

 

جرعہ جرعہ ہی مئے دید عطا ہوتی رہے

کبھی سیراب نہ ہو پائے یہ پیاسا تیرا

 

تاجداری کے مرادف ہے گدائی تیری

بحر کی پیاس بجھا سکتا ہے قطرہ تیرا

 

جب بھی سوچا کہ زیارت کو اٹھاؤں نظریں

یوں لگا چرخ چہارم پہ ہے روضہ تیرا

 

کچھ تو رکھ میرا بھرم کچھ تو بنا بات مری

سب کو معلوم ہے کیا رشتہ ہے میرا تیرا

 

نور پاتے ہیں ترے نور سے جانے کتنے

رات دن ہر گھڑی سورج ہے چمکتا تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات