بدلے گی لحد میری چمن زار کی صورت

بدلے گی لحد میری چمن زار کی صورت

جس وقت نظر آئے گی سرکارؐ کی صورت

 

لاریب وہ کملی میں چھپا لیں گے مجھے بھی

دیکھیں گے محمدؐ جو طلب گار کی صورت

 

پرواز مدینے کو درودوں کی لڑی ہے

کونجیں سی اڑی جاتی ہیں اک ڈار کی صورت

 

اے نور جبل ناز کیا کر تو حِرا پر

وہ خلد کا ٹکڑا ہے مگر غار کی صورت

 

صدیق و عمر حیدر و عثمان قدم بوس

کیا ہوگی نبیؐ پاک کے دربار کی صورت

 

جیسے ہی رکی اونٹنی ایوب کے در پر

سب رشک سے تکنے لگے گھر بار کی صورت

 

دربارِ رسالت میں زباں کو نہیں جنبش

سو اشک لیا کرتے ہیں گفتار کی صورت

 

سرکارؐ نئی نعت سنانے کی طلب ہے

اک خواب عطا کیجیے دیدار کی صورت

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ادب سے جو بھی مدینے میں سر جھکاتے ہیں
اگر اے نسیمِ سحر ترا! ہو گزر دیار ِحجاز میں
شوقِ درِ رسول میں گھر بار چھوڑ کر
زہے نصیٖب سفر ہو مرا بھی سوئے نبیؐ
شافعِ روزِ جزا، والیٔ جنت ُتو ہے
ہم سزاوار ایسے کب ہوئے ہیں
جائے تسکین ہے اور شہرِ کرم ہے، پھر بھی
اک تجلّی تری گماں میں ہے
نگاہِ رحمتِ حق ملتفت ہوئی مجھ پر
میں اُمتی ہوں وہ میرا آقا تو یہ خموشی ہے نا مناسب