اردوئے معلیٰ

بدن میں دل کو رکھا ہے بنا کے خانہِ عشق

بدن میں دل کو رکھا ہے بنا کے خانہِ عشق

کبھی نہ بند ہو مولا یہ کارخانہِ عشق

 

غزل کو پیار ہے یکساں تمام بچوں سے

یہ لاحقے، یہ قوافی ہیں اہلِ خانہِ عشق

 

تم اپنے پیار کی مہریں لگا کے خط بھیجو

کھلا ہے شام تلک آج ڈاک خانہِ عشق

 

یہ روز راہ میں پلکیں بچھائے رہتا ہے

ہے منتظر تِرا، میرا غریب خانہِ عشق

 

شراب بھی ہے ضروری، ضروری عشق بھی ہے

مجھے بتاؤ کہاں ہے شراب خانہِ عشق

 

وہ میری پہلی محبت کے خط کہاں رکھّے؟

صفائی مانگ رہا ہے کباڑ خانہِ عشق

 

عجیب عشق ہے یہ بھی کہ دل دھڑکتا ہے

اور اس کے ساتھ ہیں دھڑکے درونِ خانہِ عشق

 

وفا کے جرم میں عامر امیر لائے گئے

خوش آمدید یہ کہتا ہے قید خانہِ عشق

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ