بدن میں زندگی کم ہے سوا اذیت ہے

بدن میں زندگی کم ہے سوا اذیت ہے

رگیں ادھیڑ کے دیکھو کہ کیا اذیت ہے

 

تو کیا خدا مری حالت سمجھ نہیں سکتا

میں چیخ چیخ کے بولوں ؟ خدا ! اذیت ہے

 

لویں اجاڑ دیں اور روشنی کا قتل کیا

چراغِ شام سے پوچھو ، ہوا اذیت ہے

 

ہزار بار کی مانگی ، نہیں قبول ہوئی

ہم ایسے منکروں کو اب دعا اذیت ہے

 

خوشی تو آئی تھی مہمان چار دن کی مگر

خدا کا شکر بڑی دیرپا اذیت ہے

 

تمہارے بعد کہاں دیکھتے ہیں چہرے کو

ہمارے سامنے یہ آئینہ اذیت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تمہیں لگے تو لگے کچھ بھی لا محالہ برا
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
خوشبوئے گُل نظر پڑے ، رقص ِ صبا دکھائی دے
میرا سکوت سُن ، مِری گویائی پر نہ جا
غضب کی دُھن، بلا کی شاعری ہے
وہ زخم جو معمول سمجھتے تھے ، بھرے کیا؟
بات یوں ہے کہ اب دل سلامت نہیں
درد بڑھتا ہی چلا آتا ہے رفتار کے ساتھ
بنا ہے آپ سبب اپنی جگ ہنسائی کا
تو بہت کچھ تھا سو بچا کچھ کچھ