اردوئے معلیٰ

Search

بدن پہ تیرگی چھا جائے ، نیند آنے لگے

چراغِ اسمِ محمّد مُجھے جگانے لگے

 

یہ کیسا فطری تعلّق ہے چشم و اسم کے بیچ

کہ تیرا ذکر ہُوا اور ابر چھانے لگے

 

عجیب کیف سا چھایا رہا شبِ معراج

دِیے وجود کے طاقوں پہ جِھلملانے لگے

 

ترے مدارِ ثنا ہی میں مُنقلب ہُوا مَیں

بدن کے مُردہ عناصر کہیں ٹھکانے لگے

 

عجیب لَے میں سَحَر دَم جو نعت مَیں نے پڑھی

طرح طرح کے پرندے قریب آنے لگے

 

درود پڑھتا رہا اور مُجھے خبر نہ ہُوئی

گلاب قدموں میں رکھ رکھ کے لوگ جانے لگے

 

ترے ہی دھیان میں ڈوبا ہُوا تھا مَیں سرِ شام

کہ آسماں سے ستارے مُجھے بُلانے لگے

 

ترا کرم کہ مَیں ٹُوٹا تو جوڑنے کے لئے

تمام ہاتھ مری کرچیاں اُٹھانے لگے

 

بس ایک آن میں ہی انشراحِ صدر ہُوا

مرے رُکے ہُوئے سانسوں میں سانس آنے لگے

 

یہ میرا بخت کہ از خود ہی نعت اُتر آئی

حضور میرے تصوّر میں آپ آنے لگے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ