برسائے وہ آزادہ روی نے جھالے

برسائے وہ آزادہ روی نے جھالے

ہر راہ میں بہہ رہے ہیں ندی نالے

اسلام کے بیٹرے کو سہارا دینا

اے ڈوبتوں کے پار لگانے والے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

’’سرشار مجھے کر دے اک جامِ لبالب سے‘‘
’’بناتے جلوہ گاہِ ناز میرے دیدہ و دل کو‘‘
’’جہاں بانی عطا کر دیں بھری جنت ہبہ کر دیں ‘‘
نظر کو نور کی اک سلسبیل ملتی ہے
دردِ دل کر مجھے عطا یا رب
جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم
عالم ہمہ صورت ہے، گر جان ہے تو تُو ہے
آتے رہے انبیا کَمَا قِیلَ لَھُم
محمدؐ نام میں وہ نور لائے
نقشِ پا اُنؐ کا میرے سینے میں