اردوئے معلیٰ

بزمِ نوری سے طیبہ کے جلوے لے کے نعتِ نبی لکھ رہا ہوں

بزمِ نوری سے طیبہ کے جلوے لے کے نعتِ نبی لکھ رہا ہوں

دل سے اپنے عقیدت کے جذبے لے کے نعتِ نبی لکھ رہا ہوں

 

ہے نگاہوں میں طیبہ کا منظر دل میں پنہاں ہے بس یادِ سرور

جامِ عرفاں سے مستی کے قطرے لے کے نعتِ نبی لکھ رہا ہوں

 

ہند میں غم کا مارا ہوا ہوں اور بدبخت و بے آسرا بھی

سیرتِ پاک کے سارے قصّے لے کے نعتِ نبی لکھ رہا ہوں

 

زائرینِ حرم! جا کے کہنا کیفیت کو مری شاہِ دیں سے

آج آنکھوں میں اشکوں کے موتی لے کے نعتِ نبی لکھ رہا ہوں

 

کیوں نہ گھر گھر میں مقبول ہو یہ کیوں نہ تاثیر ہو اس کی سب پر

خاکِ اجمیر کے پاک ذرّے لے کے نعتِ نبی لکھ رہا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ