بزمِ ہستی کے روحِ رواں آپ ہیں

بزمِ ہستی کے روحِ رواں آپ ہیں

یا نبی! رحمتِ دو جہاں آپ ہیں

 

منبعء جود ، مونس و غمخوارِ کُل

حامیء بے کساں ، مہرباں آپ ہیں

 

شہنشاہِ زماں ، خاتمِ مُرسلاں

باعثِ کُن فکاں ، جاوِداں آپ ہیں

 

شہریارِ اِرم ، تاجدارِ حرم

رہبرِ رہبراں ، عالیشاں آپ ہیں

 

صاحبِ تاج و معراج ، محبوبِ حق

رونقِ مجلسِ قدسیاں آپ ہیں

 

عاصیوں کو قیامت کا کچھ ڈر نہیں

چونکہ والیّء کل عاصیاں آپ ہیں

 

آپ سے نور ہے ساری کونین میں

کُل خدائی کے بھی حکمراں آپ ہیں

 

آپ صبر و رضاؔ کے ہیں پیکر عظیم

خُلق میں اک مثالی جہاں آپ ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مری جاں سے قریں میرا خُدا ہے
دل کہاں ضبط میں ہے،آنکھ کہاں ہوش میں ہے
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
شاہا ! سُخن کو نکہتِ کوئے جناں میں رکھ
اور کیا چاہیے بندے کو عنایات کے بعد
محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے
عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے
ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں
کر کے رب کی بندگی خاموش رہ
یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے

اشتہارات