بزورِ تیرو تُفنگ کر لو

بزورِ تیرو تُفنگ کر لو

حیات تُم ہم پہ تنگ کر لو

 

ہمیں مِٹانے کی آرزوئیں

ہیں زنگ آلود، رنگ کر لو

 

تم اپنی ناکامیوں کی لاشوں

پہ برپا جشنِ اُمنگ کر لو

 

مگر ہو اچھا اے دشمنِ جاں

کہ سیدھے سادے سے ڈھنگ کر لو

 

پتہ ہے اِس دُشمنی کا مطلب؟

خُدا سے کرنا ہے جنگ ، کر لو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ