!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی

!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی

!پڑا ہے دامانِ چشم خالی، جناب عالی

 

ہماری آنکھوں کی حیرتیں ماند پڑ رہی ہیں

!دکھائیے کوئی چھب نرالی، جناب عالی

 

وہ آخری فیصلہ سنا کر ہوئے روانہ

!میں لاکھ چیخا جناب عالی! جناب عالی

 

پہاڑ چپ ہیں تو ان کو بے بس نا جانیئے گا

!پلٹ بھی سکتی ہے کوئی گالی، جناب عالی

 

مجھے محبت نے مار ڈالا، حضور والا

!اسے سزا دیجے سخت والی، جناب عالی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنا ہی میرا کام تھا ، بستی سے جاؤں میں
لب پہ شکوہ بھی نہیں، آنکھ میں آنسو بھی نہیں
مفلوج کئے پہلے مرے ہاتھ مکمل
ممتاز شاعر شہزادؔ احمد کا یومِ وفات
"اے خاصۂ خاصانِ رسُل ! وقتِ دُعا ھے"
درخت کاٹنے والو ! تُمہیں خبر ھی نہیں
ایک انگڑائی مرے سامنے لہرانے لگی
عام سا اِک دن
گلی سے ہجر گُذرا ہے یقیناََ
میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری