اردوئے معلیٰ

بس بہت ہو گئے نیلام، چلو لوٹ چلو

اتنے ارزاں نہ کرو دام، چلو لوٹ چلو

 

نہ مداوا ہے کہیں جن کا، نہ امیدِ قرار

ہر جگہ ہیں وہی آلام، چلو لوٹ چلو

 

معتبر ہوتی نہیں راہ میں گزری ہوئی رات

اس سے پہلے کہ ڈھلے شام، چلو لوٹ چلو

 

ماہِ نخشب سے یہ چہرے ہیں نظر کا دھوکا

چاند اصلی ہے سرِ بام، چلو لوٹ چلو

 

پتے اُڑتے ہیں ہواؤں میں پرندوں کی جگہ

رُت بدلنے کا ہے پیغام، چلو لوٹ چلو

 

اس سے پہلے کہ زمانہ کوئی دے دے عنوان

واقعہ ہے ابھی بے نام، چلو لوٹ چلو

 

اک ہوس کہتی ہے ’’کچھ دور ذرا اور ابھی“

اک صدا آتی ہے ہر گام ’’چلو لوٹ چلو “

 

منتظر کوئی نہیں مانا وہاں، پھر بھی ظہیرؔ

کچھ ادھورے ہیں ابھی کام، چلو لوٹ چلو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات