اردوئے معلیٰ

بس یہی اہتمام کرتے ہیں

ان کی مدحت مدام کرتے ہیں

 

ذکرِ خیر الانام کرتے ہیں

ہم یہی ایک کام کرتے ہیں

 

ہم سے عاصی بھی اے شہِ بطحا!

انتظارِ پیام کرتے ہیں

 

حاضری ان کے در پہ ہو جائے

آرزو خاص و عام کرتے ہیں

 

آپ کا در ہو اور ہمارا سر

یہ دعا صبح و شام کرتے ہیں

 

ہجر میں آپ کے شہِ بطحا!

میرے آنسو کلام کرتے ہیں

 

ان کی چوکھٹ پر تاجدار آکر

خود کو ان کا غلام کرتے ہیں

 

خلد حصے میں ان کے آئے گی

ان کا جو احترام کرتے ہیں

 

سبز گنبد کی چھاؤں میں آصف

دیکھئے کب قیام کرتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات