اردوئے معلیٰ

بقدرِ فہم کرتے ہیں ثنا جتنی بھی ہو ہم سے

بقدرِ فہم کرتے ہیں ثنا جتنی بھی ہو ہم سے

کہ تکمیلِ ثنا ممکن نہیں ابنائے آدم سے

 

ترے چہرے کے آگے اور سب چہرے ہیں مدھم سے

ترا پیکر ہے موزوں تر حسینانِ دو عالم سے

 

تیری سیرت بتائیں ہم کوئی پوچھے اگر ہم سے

کہ وہ تو ہو بہو ملتی ہے قرآنِ مکرّم سے

 

سکونِ دل میسّر ہو جو گیسوئے منظّم سے

پریشاں ہوں دلِ عُشّاق اس کی زُلفِ برہم سے

 

جو اس کی یاد میں ٹپکے تھے میرے دیدۂ نم سے

بچا کر لے گئے مجھ کو وہی نارِ جہنّم سے

 

پریشانی کا عالم تھا ہوئے جاتے تھے بیدم سے

چھڑایا تم نے آ کر آدمی کو پنجۂ غم سے

 

مرا کہنا ہے ہر آزردہ دل وابستۂ غم سے

سکوں چاہو تو حاصل کر لو ان کے ذکرِ پیہم سے

 

محمد ابنِ عبداللہ پہ ہاں ختم ہوتا ہے

نبوت کا چلا تھا سلسلہ اوّل جو آدم سے

 

شفاءِ کاملہ لے کر وہی ختم الرسل آیا

علاجِ نوعِ انساں ہو سکا کب ابنِ مریم سے

 

قدومِ میمنت نے آپ کے تابندگی بخشی

نقوشِ آدمیت پڑ چکے تھے سارے مدھم سے

 

تصوّر عمر بھر گرداں رہا لیکن نہیں پہنچا

وہ شب بھر میں پلٹ آئے ہیں جا کر عرشِ اعظم سے

 

حرم ہے منزلِ اوّل نظرؔ شوق و عقیدت کی

مگر ہے آخری منزل پرے بیتُ المحرّم سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ