اردوئے معلیٰ

Search

 

بلاد عشق کی ہر رہگذر میں رہتے ہیں

سفر کا کیا ہے ازل سے سفر میں رہتے ہیں

 

ہتھیلیوں پہ سجا کر چراغ وصف نبی

ہوا کے ساتھ ہمیں بحر و بر میں رہتے ہیں ہیں

 

طواف گنبد خضرا میں عمر کٹ جائے

عجیب شوق مرے بال و پر میں رہتے ہیں

 

یہی نجات کا باعث بنیں گے محشر میں

جو آبگینے مری چشم تر میں رہتے ہیں

 

در نبی ہے فقط ان کا مرکز و محور

خیال و خواب جو آزفتک سر میں رہتے ہیں

 

کرم کا ایک سمندر ہے موجزن ہر سو

غریب شہر بھی ان کی نظر میں رہتے ہیں

 

اماں ہمارا مقدر ہے اس لیے کہ ریاض

حصار رحمت خیر البشر میں رہتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ