بلا لے ہم کو بھی اب کے مدینے یا رسول اللہ

 

بلا لے ہم کو بھی اب کے مدینے یا رسول اللہ

رواں ہیں جانبِ یثرب سفینے یا رسول اللہ

 

منّور ہو مقدر میرا بھی تیری شفاعت سے

مجھے بھی تو سکھا دے وہ قرینے یا رسول اللہ

 

میسر آ بھی جائے اب نظارا سبز گنبد کا

کہ دوری اب نہیں دیتی ہے جینے یا رسول اللہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حقیقت کُھل گئی نوری سفر میں
صحرا بھی چمکتے ہیں گلزار چمکتے ہیں
زمیں و آسماں روشن مکان و لا مکاں روشن
رنگ لائی مرے دل کی ہر اک صدا لوٹنے زندگی کے خزینے چلا
قلم خوشبو کا مل جائے صحیفہ نعت کا لکھّوں
جو بھی مانگو وہ دیا کرتے ہیں
جب کسی غم نے بے قرار کیا
بُوند خوشبوئے ہوا ہے جو سمندر سے اُٹھے
کیوں نہ قربان ہوں پروانگی ہے، نزدیکی
نعت جاری جب لبوں پر ہوگئی

اشتہارات