اردوئے معلیٰ

Search

بلندیوں کے نتائج سے ڈر چکا ہوں میں

سو اپنی سوچ کے پر ہی کتر چکا ہوں میں

 

تجھے گنوا کے بھی جینا ، کمال کرنا تھا

سو یہ کمال مری جان کر چکا ہوں میں

 

یہ زیر و بم مرے سینے کا صرف دھوکا ہے

میں سچ کہوں تو حقیقت میں مر چکا ہوں میں

 

میں ایک شخص نہ تھا ، عشق کا زمانہ تھا

سو عہد ہو کے جہاں سے گزر چکا ہوں میں

 

ادا ہوا نہ ہوا قرض تیرا تو جانے

حیات تیری ہتھیلی پہ دھر چکا ہوں میں

 

مثالِ چشم کھلے تھے تمہارے بندِ قباء

غبارِ خوابِ سحر تھا بکھر چکا ہوں میں

 

بس اک نشان سا باقی ہوں حافظے پہ ترے

میں زخمِ عشق اگر تھا تو بھر چکا ہوں میں

 

تمہاری لاج مروت میں چپ رہے پھر بھی

میں جانتا ہوں کہ دل سے اتر چکا ہوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ