اردوئے معلیٰ

Search

 

بنامِ نورِ مجسم پیام لکھا ہے

گرہ ہوا کی پکڑ کر سلام لکھا ہے

 

کہا ہے آپ کے عارض کو نورِ صبحِ ازل

سیاہ زلف کو جنت کی شام لکھا ہے

 

ہیں سطر سطر پہ الفاظ سر جھکائے کھڑے

کہ لفظ لفظ بصد احترام لکھا ہے

 

اسی کے عکس کے پر تو سے اسم چمکے ہیں

جبینِِ عرش پہ جس کا مقام لکھا ہے

 

قبول ہو یہ نگارش تو کوئی بات بنے

کہ میں نے خود کو نبی کا غلام لکھا ہے

 

جبینِِ صدق پہ دستِ بقا نے سیرت کو

بڑے ہی ناز سے حسنِ دوام لکھا ہے

 

جو وصف دیکھنے ہوں دیکھے کوئی قرآں سے

انہی کی شان میں سارا کلام لکھا ہے

 

نگاہ چنتی رہے پھول اس کے حرفوں سے

تمام صفحوں پہ جو، پاک نام ، لکھا ہے

 

یہ حسنِ کُن ہے کہ نام ان کا باغِ ہستی میں

ہر ایک گل پہ بصد اہتمام لکھا ہے

 

عقیدتوں کے سمندر سے لفظ نکلے ہیں

قلم نے کر کے وضو ان کا نام لکھا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ