اردوئے معلیٰ

Search

بنا رہے ہو جو نقش و نگار شیشے پر

کہ بال آنے لگے ہیں ہزار شیشے پر

 

سنور رہا تھا عجب بے خودی میں دیر تلک

وہ شخص چھوڑ گیا ہے خمار شیشے پر

 

دکھائی دے رہا تھا ٹہنیوں پہ ایک ہی پھول

اتر رہی تھی عجب سی بہار شیشے پر

 

بہت سے چہروں میں الجھا ہوا ہے اک چہرہ

میں دیکھتا ہوں کوئی انتشار شیشے پر

 

لکیر کھینچی تھی شفاف پانیوں پہ کہیں

میں عکس ڈھونڈتا ہوں داغدار شیشے پر

 

دھواں دھواں ہے فضا روشنی کے ھاتھوں سے

بنا دیا گیا ہے شاہکار شیشے پر

 

میں راستوں میں کہیں خود کو چھوڑ آیا مگر

لکھا ہوا تھا ترا انتظار شیشے پر

 

پڑا ہوا ہوں زمیں کی سنہری مٹی میں

میں سنگ ہوں نہ مجھے اعتبار شیشے پر

 

وہ ٹوٹتی ہوئی آواز جانے کس کی تھی

خراشیں پڑنے لگیں بے شمار شیشے پر

 

زبیر اُس نے یہ دیکھا ہے کس محبت سے

نگاہ اٹھ رہی ہے بار بار شیشے پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ