بنا ہے آپ سبب اپنی جگ ہنسائی کا

بنا ہے آپ سبب اپنی جگ ہنسائی کا

جو مشتِ خاک نے دعویٰ کیا خدائی کا

 

وہی ہے حال نگاہوں کی نارسائی کا

وہ سامنے ہیں پہ نقشہ وہی جدائی کا

 

تمہارے در کے سوا میں کسی جگہ نہ گیا

مجھے تو شوق نہیں قسمت آزمائی کا

 

یہی زمانہ مٹانے پہ تل گیا مجھ کو

جسے تھا ناز کبھی میری ہم نوائی کا

 

اسی نے غرق مجھے کر دیا یہی ہے وہ دل

نہ اشتباہ تھا جس پر کسی برائی کا

 

ہے اپنی آنکھوں میں طوفانِ اشک اے غمِ دل

ترا حساب چکاتا ہوں پائی پائی کا

 

یہ حسنِ غیر پہ ریجھے بدل گئے ایسے

دل ونگاہ سے شکوہ ہے بے وفائی کا

 

جو عاصیوں کا سہارا نظرؔ ہے روزِ حساب

مجھے بھی فخر اسی کی ہے مصطفائی کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے
ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ
محبت سے سرشار ہو کر لکھی ہے
موجبِ صد خیر و برکت، باعثِ تسکینِ جاں
سردارِ رسل خواجۂ گیہاں کی طرح
ثنا خوانِ محمدؐ پتّہ پتّہ ڈالی ڈالی ہے
گرچہ ہر حرفِ سخن لؤ لؤ و مرجاں ہو جائے
مقتبس جلوۂ رخ سے جو ہے صبحِ روشن
یاایُّھَا الرّسولُ و یا ایّھُا النّبی
گل و بلبل کے افسانے کہاں تک

اشتہارات