بن کے پنچھی میں کاش اڑا ہوتا

بن کے پنچھی میں کاش اڑا ہوتا

اور طیبہ میں جا بسا ہوتا

رشک وہ جس پہ یہ جہاں کرتا

اس بلندی پہ مرتبہ ہوتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کہیں تاریخِ عالم میں نہ دیکھا
جبیں میری ہے اُنؐ کا نقشِ پا ہے
کوئی اُنؐ سا نہیں کون و مکاں میں
گُلوں میں رنگ، خوشبو تازگی ہے
’’ گونج گونج اُٹھّے ہیں نغماتِ رضاؔ سے بوستاں ‘‘
’’پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ ‘‘
’’محبت تمہاری ہے ایمان کی جاں ‘‘
’’درِ احمد پہ اب میری جبیٖں ہے‘‘
جو پھول اپنے رنگ میں خوشبو میں ہو جدا
مدینے کو مسافر جا رہے ہیں