اردوئے معلیٰ

بوسۂ نُور کی تخلید ہے، سنگِ اسوَد

بوسۂ نُور کی تخلید ہے، سنگِ اسوَد

بڑی تاباں تری تسوید ہے سنگِ اسوَد

 

دیکھنا وہ تجھے سرکار کا دورانِ طواف

رشکِ صد دید تری دید ہے سنگِ اسوَد

 

تیری تنصیب میں شامل ہے یدِ نُور کا لمس

سو مسلّم تری تفرید ہے سنگِ اسوَد

 

ایک سُورج نے اُجالا تھا ترا دستِ مُراد

تُو اجالوں کی ہی تمہید ہے سنگِ اسَود

 

بخشے تو جائیں گے بوسے سے بہ فیضِ سنت

صرف کرنی تجھے تائید ہے سنگِ اسوَد

 

عام ہیں خوب سیہ پوش سویرے تیرے

یعنی تو رات کا خورشید ہے سنگِ اسوَد

 

چاند آیا ہے سوا لاکھ ستارے لے کر

تیری پوری ہوئی امید ہے سنگِ اسوَد

 

ساتھ لایا ہُوں مَیں صدیوں کا یہ آشفتہ جنوں

یہ مرے شوق کی تجدید ہے سنگِ اسوَد

 

تجھ کو جو بخشی تھی اِک اَبر نے رحمت بن کر

بہرِ مقصودؔ وہ تبرید ہے سنگِ اسوَد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ