اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

’’ بول پیا‘‘

ذات کا گنجل کھول پِیا
’’کچھ بول پِیا‘‘
اس رات کی کالی چادر کو
یہ چاند ستارے اوڑھ چکے
کچھ جان سے پیارے یار سجن
دل توڑ چکے، مکھ موڑ چکے
خود آپ بھٹکتی راہوں میں
یہ تن تنہا مت رول پِیا
’’کچھ بول پِیا‘‘
وہ عشوہ و غمزہ دیکھ لیا
اب رات کٹے گی خوابوں میں
میں نام ترے جیون جیون
تم اب تک دور سرابوں میں
جو راکھ ہوئی ان خوابوں میں
یہ ہستی ہے انمول پِیا
’’کچھ بول پِیا‘‘
تو جب تک اپنے پاس رہا
گرداب کا گھیرا راس رہا
پر تول چکا، سب بول چکا
اب من پنچھی بے آس رہا
جذبات نہیں معصیت کے
یوں زہر نہ ان میں گھول پِیا
’’کچھ بول پِیا‘‘
دربار لگا ہے زخموں کا
دردوں کی نمائش جاری ہے
رِستا ہے لہو ان پھولوں سے
خاروں کی ستائش جاری ہے
ہر زخم مہکنے لگ جائے
اک بول تو ایسا بول پِیا
’’کچھ بول پِیا‘‘
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کر کے مولا سے دعائیں ایک گڑیا لی گئی
اگر تُو کہے تو
جنگِ ستمبر 1965ء
ادھ کھلی گرہ
شاعری
قدم قدم تے پِیڑ وے عشقا
دکھ تماشا لگائے رکھتا ہے
سوچتا ہوں صیدِ مرگ ِ ناگہاں ہو جاؤں گا
مجھے تمغۂ حُسنِ دیوانگی دو
انتخاب 1988ء