اردوئے معلیٰ

Search

بُرا نہ مانیے معصوم سی جسارت کا

میں منتظر ہوں اگر آپ کی زیارت کا

 

سوال نامہ نیا ہاتھ میں تھما دے گا

میں حل نکالوں گا جب وقت کی بجھارت کا

 

اداسیوں کا الگ ذائقہ سہی لیکن

چکھا ہے ہم نے مزہ اک نئی شرارت کا

 

تمام رات ترے ساتھ جاگتا رہا ہے

ہمارا خواب ہے واقف تری بصارت کا

 

منافع درد کی صورت میں مل رہا ہے مجھے

بس ایک فائدہ ہے عشق کی تجارت کا

 

بدن میں آنکھوں کے در جا بجا نکل آئے

یہ کس نے بدلا ہے نقشہ مری عمارت کا

 

لپٹ نہ جائیں کہیں خار میرے دامن سے

اٹھاؤں حلف اگر پھول کی طہارت کا

 

مگر جو سوچ نکالی کمال کی تم نے

اگرچہ اور ہی مفہوم تھا عبارت کا

 

تراش کر میں نے پتھر کو دھڑکنیں کیا دیں

مچا ہے شور جہاں میں مری مہارت کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ