بچھی ہے مسندِ عز و وقار ان کے لیے

بچھی ہے مسندِ عز و وقار ان کے لیے

سروں کو خم ہیں کیے تاجدار ان کے لیے

 

سجی ہے ان کے لیے محفل نجوم و قمر

ہے آسمان کو حاصل قرار ان کے لیے

 

درود پڑھتی ہیں سر سبز وادیاں ان پر

رواں دواں ہیں سبھی آبشار ان کے لیے

 

اثاثہ نکہت طیبہ کا بھر کے دامن میں

ہوئیں ہوائیں غریب الدیار ان کے لیے

 

انہیں کے واسطے اثمار زندگی پہ بہار

کیے ہیں باغوں نے سولہ سنگھار ان کے لیے

 

ہمارا دل بھی بچھا ہے انہیں کی راہوں میں

ہماری جان بھی ہوگی نثار ان کے لیے

 

خزاں کے دور میں جو اْن کو یاد کرنے لگے

فصیل بن گئی موج بہار ان کے لیے

 

خدا نے ان کے لیے کائنات کی تخلیق

ہر ایک نقش بنا شاہکار ان کے لیے

 

وہ بزم جاں میں ہیں موجود کیا کریں آخر

پڑے ہیں سجدے میں برق و شرار ان کے لیے

 

یہ میں ہوں اور یہ ہے دامن تہی میرا

نواز دے مرے پروردگار ان کے لیے

 

مجیبؔ راہ تصور میں ایک مدت سے

پڑا ہے قافلہ انتظار ان کے لیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ