اردوئے معلیٰ

بڑا کھٹکا لگا رہتا تھا دنیا میں قیامت کا

یہاں تو گرم ہے بازار آقا کی شفاعت کا

 

تڑپتا ہی رہوں کیا میں تمنائے مدینہ میں

خدایا کچھ تو حل نکلے مری دیر ینہ حسرت کا

 

جہاں میں نام ہے روشن نبی کے چار یاروں سے

صداقت کا، عدالت کا، سخاوت کا، شجاعت کا

 

وہاں سے آنے والوں کی زباں پر ہے یہی کلمہ

مدینہ جسکو کہتے ہیں وہ گہوارہ ہے رحمت کا

 

فلک کی انجمن ہو یا زمیں کی بزم گاہیں ہوں

کہاں چرچا نہیں ہوتا نبی کی شان و عظمت کا

 

زمانے بھر کی دولت ہیچ ہے اسکی نگاہوں میں

خزانہ جسکو حاصل ہو گیا انکی محبت کا

 

زمیں کے ذرے ذرے سے صدائے مرحبا آئی

چراغاں آسماں پر بھی رہا جشن ولادت کا

 

مرادیں سب کو ملتی ہیں مرے سرکار کے در سے

لگا رہتا ہے اک میلہ ہمیشہ اہل حاجت کا

 

ولائے مصطفیٰ کا چاند چرخ دل پہ روشن ہے

مجھے اندیشہ کیا ہو تیرہ و تاریک تربت کا

 

ہوئی ہے آشنا جسکی جبیں خاک مدینہ سے

ثریا سے بھی اونچا ہے ستارا اسکی قسمت کا

 

فضائے ہر دو عالم اس کی خوشبو سے معطر ہے

مہکتا پھول ہے آقا ہمارا باغ قدرت کا

 

پڑھی ہے جب سے سیرت سرور کونین کی میں نے

تصور بھی نہیں باقی مرے دل میں کدورت کا

 

نظر کی راہ سے ہوکر گزر جائیں کبھی آقا

لئے بیٹھا ہے ارماں نورؔ بھی دل میں زیارت کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات