اردوئے معلیٰ

Search

بڑھ کر ہے خاکِ طیبہ، رفعت میں آسماں سے

شمس و قمر سے افزوں ، روشن ہے کہکشاں سے

 

ارضِ حجاز ہے اِک عِشق ووفا کی بستی

افضل ہے کوئے احمد جنت کے گلستاں سے

 

گمراہی و جہالت انساں کا تھیں مقدر

علم و ہنر جو پایا، پایا اس آستاں سے

 

آمد سے تیری پھلیں نور و یقیں کی کرنیں

رخصت ہوئے اندھیرے ویرانہ جہاں سے

 

کلیاں کھلیں خوشی سے پھولوں میں رنگ آیا

باغِ حیات مہکا خوشبوئے باغباں سے

 

طوفان کے تھپڑے حد سے گزر گئے ہیں

ناؤ بچے گی اپنی رحمت کے بادباں سے

 

چشمِ کرم ہو آقا بسنا و کاشر پر

نسبت ہے اب بھی اُن کو آقائے دوجہاں سے

 

مِدحتَ سرا ہے نقوی مولا کی عظمتوں کا

پھر خوف کیوں ہو اُس کو محشر کے امتحاں سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ