اردوئے معلیٰ

بگڑی ہوئی قسمت کو سرکار بناتے ہیں

جن کو نہ کوئی پوچھے اُن سے بھی نبھاتے ہیں

 

چاہیں تو وہ قدموں میں طیبہ میں بلاتے ہیں

چاہیں تو وہ خوابوں میں دیدار کراتے ہیں

ہر اک پہ کرم کے وہ انبار لٹاتے ہیں

 

دکھ درد کے ماروں کے یاور ہیں نبی سرور

غم خوار زمانے کے جگ داتا ہیں وہ رہبر

ہر دل کی وہ سنتے ہیں امداد کو آتے ہیں

 

رونے نہیں دیتے ہیں سرکار دِوانوں کو

سینے سے لگاتے ہیں اپنوں کو بِگانوں کو

گرتوں کو مرے آقا خود بڑھ کے اٹھاتے ہیں

 

انداز عنایت کا دیکھو میرے آقا کا

سائل کو وہ دیتے ہیں بن مانگے بہت زیادہ

واقف ہیں وہ سائل سے ، جھولی کو سجاتے ہیں

 

خوشبو ہے مدینے میں سرکار کی زلفوں کی

اور خاک شفا ساری سرکار کے قدموں کی

جاتے ہیں جو طیبہ میں وہ فیض یہ پاتے ہیں

 

لے آؤ تصور میں کیا خوب سماں ہو گا

جب سامنے آقا کے خوش طرز بیاں ہو گا

حسان ہیں منبر پر اور نعت سناتے ہیں

 

اللہ کی رحمت سے ، اللہ کی شفقت سے

عزت سے زمانے میں ہر آن سعادت سے

الحمد! کہ ٹکڑے ہم سرکار کے کھاتے ہیں

 

اُن سا نہ کوئی افضل ، اُن سا نہ کوئی اعلیٰ

ہر کام ہمیں کرنا ہے ان کی رضاؔ والا

میلاد منا کر ہم یہ سب کو بتاتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات