اردوئے معلیٰ

بھرے کاسے، طلب سے بھی زیادہ بھیک پائی ہے

بھرے کاسے، طلب سے بھی زیادہ بھیک پائی ہے

درِ سرکار پہ دِن رات حاضر سب خُدائی ہے

 

برستا ہے سدا ابرِ کرم شہرِ پیمبر میں

سدا سرکار کے در پہ گھٹا رحمت کی چھائی ہے

 

مُنوّر اُن کے چہرے ہیں، جبیں اُن کی ہے نورانی

جنھوں نے آپ کے در پر جبیں اپنی جھُکائی ہے

 

ہماری لاج رکھ لینا، بھرم سرکار رکھ لینا

کہ اُمت آپ کی آقا مظالم کی ستائی ہے

 

موافق بھی منافق ہیں، جو رہبر تھے وہ رہزن ہیں

ہوئے اپنے پرائے، دُشمنِ جاں بھائی بھائی ہے

 

کبھی بے مول بِکتے تھے، ہوئے انمول ہم جب سے

خُدا سے دِل لگایا ہے، نبی سے لو لگائی ہے

 

بقائے زندگی پیہم ظفرؔ! شہرِ مدینہ میں

پیامِ موت اُس شہرِ مُقدس سے جدائی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ