اردوئے معلیٰ

Search

بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے

ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے

 

کسی بدن کی تمازت نڈھال کرتی ہے

کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے

 

دکھا رہا ہے خریدار بن کے آج مجھے

جسے لپیٹ کے رکھوں وہ تھان کھینچتا ہے

 

نشست کے تو طلبگار ہی نہیں ہم لوگ

ہمارے پاؤں سے کیوں پائدان کھینچتا ہے

 

بدل کے دیکھ چکی ہے رعایا صاحب ِتخت

جو سر قلم نہیں کرتا زبان کھینچتا ہے

 

یہ سارا جھگڑا ترے انہماک کا ہی تو ہے

سمیٹتا ہے کوئی داستان کھینچتا ہے

 

چراغوں میں وہ چراغ اس لئے نمایاں ہے

ہم ایسے دیکھنے والوں کا دھیان کھینچتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ